May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/travelinsuregenie.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Elon Musk, Chief Executive Officer of SpaceX and Tesla and owner of X, formerly known as Twitter, attends the Viva Technology conference dedicated to innovation and startups at the Porte de Versailles exhibition centre in Paris, France, June 16, 2023. (Reuters)

امریکہ کے منفرد حیثیت کے حامل ارب پتی کاروباری ایلون مسک کے وکیلوں نے چھ ارب ڈالر کی فیس طلب کر لی ہے۔ یہ فیس 56 ارب ڈلر کی تنخواہ کے حجم کے ایک کیس کے حوالے سے طلب کی گئی ہے۔ وکیلوں کی اس فیس کو ایک ریکارڈ فیس کہا جا رہا ہے۔ جبکہ ایلون مسک نے اس فیس کو ‘مجرمانہ فیس’ قرار دے دیا ہے۔

وکلا کی طرف سے بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اتنی بڑی فیس کی مثال ماضی میں کبھی سامنے نہیں آئی ہے ۔ مگر یہ وکلا کی یہ تینوں کمپنیاں اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ واضح رہے اس فیس کا تخمینہ فی گھنٹہ کے حساب سے 288888 ڈالر لگایا گیا ہے۔

اس لیے ایلون مسک نے اس قدر زیادہ فیس کو مجرمانہ قرار دے دیا ہے۔ ان کے بقول ان وکیلوں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ ٹیسلہ کو نقصان پہنچایا ہے اور اب 6 ارب ڈالر کی بڑی رقم کا مطالبہ کر رہی ہیں۔’ تاہم ٹیسلہ اور مسک کے وکیل نے ابھی تک اس بارے میں اس سلسلے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

کمپنی ان وکلا کو ادائیگی کرے گی جنہوں نے کمپنی کے شئیر ہولڈر رچرڈ ٹور نیٹا کی طرف سے عدالت میں نمائندگی کی ہے۔ رچرڈ نے ایلون مسک پر مقدمہ کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اس مقدمے کو جنوری میں خارج کر دیا۔

اس سلسلے میں وکلا کی طرف سے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی کو فیس ادا کرنے کا کہا گیا ہے کیونکہ اسے مسک کی تنخواہ کے پیکج کے واپس ہونے سے فائدہ ہوا ہے۔ اس قانونی ٹیم کے مطابق کارساز کمپنی کو 266 ملین دالر کے حصص کی واپس مل جائیں گے۔ ان وکلا نے فیس کی ادائیگی کو ٹیسلہ کی یہ فیس ٹیکسوں کی مد سے کاٹی جائے گی۔ خاتون جج کیتھلن میک نے اپنے فیصلے میں کہا ‘ مسک کی تنخواہ ناقابل تنسیخ ہے۔’

بتایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے حصص کے سلسلے میں مقدمات کو سننے والی عدالت میں 2008 میں سب سے بڑی فیس کا معاملہ سامنے آیا تھا ۔ اس وقت قانونی ٹیم کا 688 ملین ڈالر کی فیس کا مطالبہ تھا اور اس قانونی ٹیم نے سات ارب بیس کروڑ ڈالر کے مالیت کے تنازعے کا فیصلہ کرایا تھا۔

اب یہ ٹیسلہ کیس میں وکیلوں کی فیس کا معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ میں 267 ملین ڈالر کی فیس کا ایک کیس زیر سماعت ہے۔ یہفیس ایک ارب ڈالر کے کیس سے متعلق ہے۔

وکیلوں کیطرف سے بری فیسوں کے مطالبات کے خلاف موقف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مقدمات کی مالیت کا حجم بڑھتا جائے وکیلوں کی حد سے بڑھی ہوئی فیس کے تنازعے سے بچنے کے لیے اس طرح فیس مقرر کرنی چاہیے کہ فیصد کے حساب سے فیس گر جائے۔ واضح رہے اس فیس جٓکی رقم کیس کی مجموعی رقم کا گیارہ فیصد بنتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *