May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/travelinsuregenie.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
هجوم حوثي على سفينة بالبحر الأحمر (أرشيفية- رويترز)

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبرے نے کہا ہے کہ بیلیز کا جھنڈا لہرانے والے ایک کارگو جہاز جو برطانیہ میں رجسٹرڈ ہے پر آبنائے باب المندب میں حملے کی اطلاع ملی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق ایمبری نے ایک اور نوٹ میں کہا کہ یہ جہاز یو اے ای میں خور فاکن سے بلغاریہ کے ورنا کے سفر پر شمال کی طرف جا رہا تھا جب یہ حملہ ہوا۔

میمو میں کہا گیا ہے کہ “جزوی طور پر لدے ہوئے جہاز نے مختصر طور پر دس سے چھ ناٹ تک سست روی اختیار کی اور جیبوتی بحریہ سے رابطہ کرتے ہوئے واپس آنے سے پہلے راستے سے ہٹ گیا”۔

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا کہ اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ یہ واقعہ یمن میں مخا کی بندرگاہ سے 35 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آیا جہاز کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں نقصان ہوا۔ اتھارٹی نے ایک نوٹ میں کہا کہ عملے کے تمام ارکان ٹھیک ہیں۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں مزید کہا کہ حکام معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور علاقے سے گذرنے والے جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

قبل ازیں برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک اور یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اتوار کو غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ انھوں نے بحیرہ احمر میں استحکام کی بحالی کے لیے بحری کارروائیوں کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔

برطانوی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے ٹیلیفون کال کے دوران غزہ کی پٹی میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سوناک نے یورپی عہدیدار کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور شاہ عبداللہ کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت سے آگاہ کیا۔

برطانوی بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور وہاں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *