May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/travelinsuregenie.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

دکھائے جن کا تعلق برطانیہ، آسٹریلیا اور پولینڈ سے ہے۔ تاہم، چوتھے امدادی کارکن کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ یو این سیکوریٹی کاؤنسل میں امریکی ترجمان نے اس واقعے پر اظہار افسوس کیا اور اسرائیل سے تفتیش کا مطالبہ کیا۔

World Central Kitchen staff providing assistance. Image: X

ورلڈ سینٹرل کچن کے کارکنان امداد فراہم کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

اسرائیل نے ورلڈسینٹرل کچن (ڈبلیو کے سی) کے ۷؍ امدادی کارکنان اور ان کے ڈرائیور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے  ہیں۔ پیر کوغزہ کے الاقصیٰ اسپتال میں پانچوں افراد کی لاشیں پہنچی تھیں۔ متعدد افراد کے لباس پر چیریٹی کے لوگو لگے تھے۔ عملے نے مہلوکین کے پاسپورٹ بھی دکھائے جن کے مطابق ایک کا تعلق برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ، پولینڈ اور فلسطین سے ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس حادثے کے تعلق سے بھی اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس المناک حادثے کا جائزلے رہا ہے۔ 

ادارے کے مہلوک امدادی کارکنان۔ تصویر: ایکس
اس حوالے سے ڈبلیو سی کے کے بانی شیف جوس اینڈریس نے بتایا کہ آج ڈبلیو سی کے نے آئی ڈی ایف کے حملے میں اپنے متعدد بھائیوں اور بہنوں کو کھو دیا ہے۔ میں ان کے خاندانوں اور ڈبلیو کے سی کیلئے غمزدہ ہوں۔ یہ لوگ فرشتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ یوکرین، غزہ ترکی، مراکش، باہاماس اور انڈذونیشیا میں خدمات انجام دی ہیں۔ یہ افراد بے نام نہیں ہیں۔

انہوں نے اسرائیلی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اندھا دھند مارنا بند کرے۔ اب انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ کو ختم کرنے کی سخت ضرورت ہے اور غذا کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی بند کیا جانا چاہئے۔ اب مزید معصوموں کی جانیں نہیں جانی چاہئے۔ ہماری انسانیت کے ذریعے ہی امن کی شروعات ہو سکتی ہے۔ اسے اب ختم ہونا چاہئے اور امن قائم ہونا چاہئے۔

اس حوالے سے محمود ثابت، جو ریڈ کریسینٹ کے طبی عملے میں شامل ہیں اورجو اس ٹیم میں شامل تھے جو لاشوں کو اسپتال لے کر آئی تھی، نے اسوشی ایٹ پریس کو بتایاکہ نے بتایا کہ یہ کارکن قافلے میں تھے جو شمالی غزہ سے باہر جا رہا تھا جب اسرائیلی میزائل نےانہیں نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈبلیو کے سی کی ٹیم نے بتایا کہ شمالی غزہ میں غذائی امداد کی تقسیم کو مربوط کر رہی ہے اور جنوب میں رفح کی جانب واپس جا رہی ہے۔ پیر کو متحدہ عرب امارات اور ادارےکے تین مشترکہ غذائی امداد والے بحری جہاز غزہ پہنچے تھے جن میں ۴۰۰؍ٹن غذائی امداد اور دیگرسامان تھے۔

اس ضمن میں آسٹریلیا کے ڈپارٹمنٹ آف فارین افیئرس اینڈٹریڈ نے کہاکہ وہ فوری طور پر رپورٹس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آسٹریلیا کا بھی ایک طبی عملہ غزہ میں ہلاک ہوا ہے۔ یہ رپورٹس کافی حد تک پریشان کن ہیں۔ 

یہ واقعہ دل براداشتہ ہے: ایڈرین ویسٹن

امریکہ نے اس واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ خود اس کی تفتیش کرے۔نیشنل سیکوریٹی کاؤنسل کے ترجمان ایڈرین ویسٹن نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ے کہ ہم اس حملے سے کافی دل شکستہ اور پریشان ہیں۔امدادی کارکنان کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہئے کیونکہ وہ شدید غذائی بحران کے درمیان انسانی امداد کی رسائی کو ممکن بنا رہے ہیں۔ میرا اسرائیل سے مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کرے۔
خیال رہے کہ غزہ میں ۶؍ ماہ سے جاری مسلسل اسرائیلی جارحیت نے وہاں کے شہریوں کو بھکمری کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ غزہ کی آدھی آبادی فاقہ کشی کا سامنا کر رہی ہے۔ تاہم، اب تک بھکمری کے سبب تقریباً ۳۰؍ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ 
اسرائیل نے یو این آر ڈبلیو اے کو بھی شمالی غزہ میں انسانی امداد پہنچانے سے روک دیا ہے اور دیگر امدادی اداروں کو کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی رسائی ناممکن ہو رہی ہے کیونکہ اسرائیلی فوجیں سختی سے تفتیش کر رہی ہیں۔

اسرائیل کے گھناؤنے جرائم
خیال رہے کہ الشفاء اسپتال کے دو ہفتے کے محاصرے کے بعد اسرائیلی فوج نے اسپتال چھوڑ دیا ہے۔ تاہم، اسرائیلی حملوں اور چھاپوں کے نتیجے میں اسپتال کے اندر اور اطراف میں تباہی ہی تباہی ہے۔ تصاویر سے ظاہرہوتا ہے کہ الشفاء اسپتال کی مرکزی عمارتیں بری طرح جلی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے جانے کے بعد فلسطینی اسپتال پہنچے تھے تا کہ شہریوں کی لاشیں تلاش کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجیوں نے الشفاء اسپتال چھوڑ دیا،۴۰۰؍ ہلاکتیں
واضح رہے کہ اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ۳۲؍ ہزار فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل کی رکاوٹوں نے غزہ کے فلسطینیوں کوبنیادی ضروریات کی رسائی سے محروم کر دیا ہے اور وہ غذائی بحران کا شکار ہیں۔ اس ضمن میںیو این کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کا ۶۰؍ فیصد ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ خیال رے کہ جنوری میںسماعتوں کے دوران عالمی عدالت میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔ عالمی عدالت نے اسرائیل کو گزشتہ ہفتے بھی غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو ممکن بنانے کی ہدایت دی تھی اور اسے جوابی رپورٹ داخل کرنے کا بھی حکم سنایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *